Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

11/6/26

مولانا رومؒ کے اولیاء اللہ کی صحبت اور پیرِ کامل کے بارے میں ایمان افروز اشعار مع اردو ترجمہ

 

یک زمانے صحبت با اولیا

بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

کسی اللہ والے کی صحبت میں ایک لمحہ بیٹھنا سو سالہ مقبول عبادت سے بہتر ہے

اولیاء را ہست قدرت از الہ

تیر جستہ باز گردانند راہ

اللہ والوں کو اللہ کی طرف سے وہ طاقت حاصل ہے کہ چلائے ہوئے تیر کو راستے سے واپس کر دیتے ہیں

فیضِ حق اندر کمالِ اولیاء

نورِ حق اندر جمالِ اولیاء

اللہ والوں کے کمال میں اللہ کا فیض جاری ہے، اللہ والوں کے جمال میں نور چمکتا ہے

ہر کہ خواہدہم نشینی باخدا

او نشیند در حضورِ اولیاء

جو یہ چاہے کہ خدا کا قرب حاصل کرے، کہو اس سے کہ اللہ والوں کی غلامی میں بیٹھے

چوں شوی دور از حضورِ اولیا

در حقیقت گشتہ دور از خدا

جو کوئی اللہ والوں سے دوری رکھتا ہے، حقیقت میں وہ خدا سے دور ہو گیا ہے

پیرِ کامل صورتِ ظلِ خدا

یعنی دیدِ پیر دیدِ کبریا

پیرِ کامل خدا کے سائے کی طرح ہے، یعنی پیر کا دیکھنا خدا کا دیدار ہے

ہر کہ پیر و ذاتِ حق را یک ندید

نے مرید و نے مرید و نے مرید

جو کوئی پیر و حق کو اور خدا کو ایک نہ سمجھے، وہ مرید نہیں وہ مرید نہیں وہ مرید نہیں

 

مولانا رومؒ کے اولیاء اللہ کی صحبت، پیرِ کامل، قربِ الٰہی اور فیضِ اولیاء کے موضوع پر ایمان افروز فارسی اشعار، خوبصورت اردو ترجمہ اور روحانی تعلیمات


Share:

11/5/26

اطاعتِ رسول ﷺ: قرآن و سنت کی روشنی میں اہمیت، فضائل اور عصرِ حاضر میں عملی تقاضے

اطاعتِ رسول ﷺ : قرآن و سنت کی روشنی میں اطاعتِ رسول ﷺ کا مقام، اہمیت اور عصرِ حاضر میں اس کے عملی تقاضے

(اس مضمون میں درج ذیل عنوانات کا مطالعہ کریں گے)

اطاعتِ رسول ﷺ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے

اطاعتِ رسول ﷺ ہدایت کی سند ہے

اطاعتِ رسول ﷺ رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے

اطاعتِ رسول ﷺ عظیم کامیابی کی سند ہے

اطاعتِ رسول ﷺ جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے

اطاعتِ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی علامت ہے

اطاعتِ رسول ﷺ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے

 اطاعتِ رسول ﷺ ایمان کی علامت اور تقاضا ہے

اطاعتِ رسول ﷺ انبیاء، صدیقین اور صالحین کی معیت کا ذریعہ ہے

اطاعتِ رسول ﷺ کے چند بنیادی عملی تقاضے

اطاعتِ رسول ﷺ اور عصرِ حاضر کے چند اہم چیلنجز

           اسلام محض چند عقائد اور عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیروی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ سلسلۂ نبوت کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، جن کی بعثت قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کوئی اختیاری یا ثانوی معاملہ نہیں بلکہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی رضا، ہدایت، مغفرت اور کامیابی کے حصول کا راستہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے وابستہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کے احکام کو تسلیم کیا جائے، آپ ﷺ کی سنت کو زندگی میں نافذ کیا جائے، آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کو اپنایا جائے، آپ ﷺ کے فیصلوں کو دل سے قبول کیا جائے اور زندگی کے تمام معاملات میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو رہنما اصول بنایا جائے۔ قرآنِ کریم نے اطاعتِ رسول ﷺ کے مختلف ثمرات اور نتائج بیان کیے ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت، ہدایت، رحمت، کامیابی، جنت، اللہ کی محبت، گناہوں کی بخشش، ایمان کی تکمیل اور انبیاء و صدیقین کی معیت شامل ہیں۔ ذیل میں ان تمام پہلوؤں کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

1۔ اطاعتِ رسول ﷺ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا (سورۃ النساء: 80)ترجمہ : اور جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے یقیناً اللہ کی اطاعت کی، اور جو منہ موڑ لے تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔  اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی بنیادی اصول بیان فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت الگ الگ راستے نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، کیونکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر اور اس کے احکام پہنچانے والے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ اَطَاعَنِي فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ، وَمَنْ اَطَاعَ الْاَمِيرَ فَقَدْ اَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْاَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ۔ترجمہ: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ جس نے امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے امیر کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔ (صحیح البخاری: 7137)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی: اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ آج بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن جب رسول اللہ ﷺ کی سنت اور احکامات پر عمل کرنے کی بات آتی ہے تو اپنی خواہشات، معاشرتی روایات اور ذاتی پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو بنیادی اہمیت دے۔ عبادات، معاملات، تجارت، اخلاق، خاندانی زندگی، معاشرت اور اجتماعی معاملات میں آپ ﷺ کی رہنمائی کو اختیار کرے۔ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا مطلب صرف زبانی محبت کا اظہار نہیں بلکہ عملی زندگی میں آپ ﷺ کے احکام کو تسلیم کرنا ہے۔

2۔ اطاعتِ رسول ﷺ ہدایت کی سند ہے:  اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا( سورۃ النور: 54) ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، پھر اگر تم منہ موڑو تو رسول کے ذمے وہی ہے جو ان پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور تمہارے ذمے وہ ہے جو تم پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے، اور رسول کے ذمے تو صرف واضح طور پر پیغام پہنچا دینا ہے۔  اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ حقیقی ہدایت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ انسان اپنی عقل، تجربے اور مشاہدے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، لیکن زندگی کے تمام معاملات میں کامل اور متوازن رہنمائی کے لیے وحی الٰہی اور تعلیماتِ نبوی ﷺ کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ  (سنن ابی داؤد، حدیث: 4607) ۔ترجمہ: تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اسے اپنی داڑھوں سے مضبوط پکڑ لو۔

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  آج کا دور فکری انتشار، نظریاتی اختلافات اور مختلف فلسفوں کا دور ہے۔ ہر شخص اپنی سوچ، پسند اور نظریے کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان کے لیے سب سے محفوظ راستہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔ آج ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے فیصلوں کی بنیاد قرآن و سنت ہیں یا معاشرتی دباؤ، رسم و رواج، ذاتی خواہشات اور وقتی مفادات؟ خصوصاً نوجوان نسل کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جدید تعلیم، سائنسی ترقی اور دنیاوی مہارتیں حاصل کرنا منع نہیں، لیکن زندگی کے بنیادی اخلاقی اور روحانی اصولوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہی ہماری رہنمائی کا معیار ہیں۔

3۔ اطاعتِ رسول ﷺ رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی رحمت کے حصول کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ( سورۃ آل عمران: 132) ترجمہ: اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔  اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے حصول کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کی دنیاوی اور اخروی کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس رحمت کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مطابق ڈھالے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: كُلُّ اُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبَى، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبَى (صحیح البخاری: 7280) ترجمہ: میری امت کے تمام لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس شخص کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے گویا انکار کیا۔

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  رسول اللہ ﷺ کی اطاعت انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب کرتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں بے شمار اخلاقی اور معاشرتی مسائل موجود ہیں، مثلاً ظلم، دھوکا دہی، جھوٹ، بددیانتی، قطع رحمی، حسد، بغض اور دوسروں کے حقوق کی پامالی۔ اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں تو یہ مسائل بڑی حد تک ختم ہو سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صرف عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک، معافی، درگزر، عدل، احسان اور رحم دلی کا درس بھی دیا ہے۔ لہٰذا رحمتِ الٰہی کا طالب وہی شخص ہے جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائے۔

4۔ اطاعتِ رسول ﷺ عظیم کامیابی کی سند ہے : اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول ﷺ کو حقیقی اور عظیم کامیابی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ  ( سورۃ النور: 52) ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اللہ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی سے بچے، تو یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا   ( سورۃ الأحزاب: 71)ترجمہ:  اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، تو یقیناً اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی کامیابی محض دنیاوی مال و دولت، عہدے، شہرت اور منصب کا نام نہیں بلکہ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت میں سرخروئی حاصل کرنا ہے۔ حدیثِ مبارکہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مَا اَعْدَدْتَ لَهَا؟ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کیا: میں نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے علاوہ کوئی بہت زیادہ نماز اور روزے تیار نہیں کیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے جتنی خوشی ہوئی، کسی اور چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی۔ (صحیح البخاری، حدیث: 3688؛ صحیح مسلم، حدیث: 2639) حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  آج کامیابی کا معیار صرف دنیاوی ترقی، دولت، شہرت اور مادی آسائشوں کو سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت کے مطابق کامیابی کا اصل معیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت انسان کو آپ ﷺ کی معیت کا مستحق بناتی ہے۔ البتہ اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آپ ﷺ کی تعلیمات کی پیروی بھی کرے۔ ہمیں اپنی زندگی کے اہداف متعین کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہماری کوششیں صرف دنیا کی کامیابی کے لیے ہیں یا آخرت کی کامیابی بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

5۔ اطاعتِ رسول ﷺ جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے:  اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول ﷺ کو جنت میں داخلے کا سبب قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ  مَنْ  یُّطِعِ  اللّٰهَ  وَ  رَسُوْلَهٗ  یُدْخِلْهُ  جَنّٰتٍ  تَجْرِیْ  مِنْ  تَحْتِهَا  الْاَنْهٰرُ  خٰلِدِیْنَ  فِیْهَا وَ  ذٰلِكَ  الْفَوْزُ  الْعَظِیْمُ  ( سورۃ النساء: 13) ترجمہ: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، اللہ اسے ایسے باغات میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔  اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جنت کا راستہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے وابستہ ہے۔ جنت محض دعووں، خواہشات اور تمناؤں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے ایمان، نیک اعمال اور اللہ و رسول کی اطاعت ضروری ہے۔ حدیثِ مبارکہ:  رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبَى  ترجمہ: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا انکار کیا۔ (صحیح البخاری، حدیث: 7280) ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِذَا اُمِرْتُكُمْ بِاَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ  ترجمہ: جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرو۔ (صحیح البخاری، حدیث: 7288؛ صحیح مسلم، حدیث: 1337)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے حصول کے لیے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔ آج بعض لوگ جنت کی امید تو رکھتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کو اہمیت نہیں دیتے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حقوق العباد، حلال و حرام، معاملات اور اخلاق کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جنت کا راستہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ انسان اپنے اعمال کے بل پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا، جبکہ اطاعت اور نیک اعمال اس رحمت کے حصول کے اسباب ہیں۔

6۔ اطاعتِ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی علامت ہے:  اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے دعوے کو رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۔ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ( سورۃ آل عمران: 31)ترجمہ:  آپ فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔  یہ آیت اطاعتِ رسول ﷺ کے موضوع پر نہایت بنیادی اور جامع آیت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے محبتِ الٰہی کا معیار بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرے۔ محض زبانی دعویٰ کافی نہیں بلکہ محبت کا حقیقی ثبوت محبوب کی پیروی ہے۔ حدیثِ مبارکہ:  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتَّى اَكُونَ اَحَبَّ اِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِينَ ۔ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (صحیح البخاری، حدیث: 15؛ صحیح مسلم، حدیث: 44)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی: آج رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔ نعت خوانی، درود و سلام، محافلِ میلاد اور سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات محبت کے اظہار کے مختلف ذرائع ہیں، لیکن قرآنِ کریم نے محبت کا بنیادی معیار اتباعِ رسول ﷺ قرار دیا ہے۔ ہمیں اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے: - کیا ہماری نماز رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہے؟ - کیا ہمارے معاملات میں آپ ﷺ کی تعلیمات کی جھلک موجود ہے؟ - کیا ہم سچ بولتے، وعدہ پورا کرتے اور امانت کی حفاظت کرتے ہیں؟ - کیا ہم اپنے والدین، بیوی بچوں، پڑوسیوں اور ماتحتوں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ - کیا ہم اپنی خواہشات کے مقابلے میں سنتِ رسول ﷺ کو ترجیح دیتے ہیں؟ اگر ہم واقعی اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت و سنت کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنانا ہوگا۔

7۔ اطاعتِ رسول ﷺ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے:  اللہ تعالیٰ نے اسی آیتِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کے نتیجے میں گناہوں کی بخشش کی خوش خبری بھی عطا فرمائی: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۔ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ( سورۃ آل عمران: 31)ترجمہ:  آپ فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔  اس آیت میں دو عظیم انعامات کا ذکر ہے: 1. اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول۔ 2. گناہوں کی مغفرت۔ یہ دونوں انعامات اتباعِ رسول ﷺ کے ساتھ وابستہ کیے گئے ہیں۔ حدیثِ مبارکہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَا مِنْكُمْ مِنْ اَحَدٍ يَتَوَضَّاُ فَيُبْلِغُ ـ اَوْ فَيُسْبِغُ ـ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ: اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُولُهٗ، اِلَّا فُتِحَتْ لَهٗ اَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ اَيِّهَا شَاءَ ۔ترجمہ: تم میں سے جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (صحیح مسلم، حدیث: 234)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی: انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے زندگی میں غلطیاں اور گناہ سرزد ہو سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے توبہ، استغفار اور نیک اعمال کے ذریعے مغفرت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اتباع انسان کو ایسے اعمال کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا سبب بنتے ہیں۔ آج ہمیں چاہیے کہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں، اگر کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، استغفار کریں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کریں۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ گناہوں کی مغفرت اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے ہوتی ہے، اس لیے اتباع کے ساتھ توبہ، اخلاص اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

8۔ اطاعتِ رسول ﷺ ایمان کی علامت اور تقاضا ہے : اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ  (سورۃ الأنفال: 1) ترجمہ:   اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مؤمن ہو۔  اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کا عملی تقاضا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ حدیثِ مبارکہ:  رسول اللہ ﷺ نے نماز کے طریقے کے بارے میں ارشاد فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَاَيْتُمُونِي اُصَلِّي  ترجمہ: تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 631) ایک اور حدیث میں حج کے مناسک کے بارے میں فرمایا: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ ۔ترجمہ: تم اپنے حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو۔ (صحیح مسلم، حدیث: 1297)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  ایمان صرف دل میں موجود ایک کیفیت کا نام نہیں بلکہ اس کے عملی تقاضے بھی ہیں۔ ایک مؤمن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو خوش دلی سے قبول کرتا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، نکاح، طلاق، خرید و فروخت، وراثت اور معاشرتی معاملات میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہمارے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آج ہمیں عبادات میں اپنی پسند کے بجائے سنتِ رسول ﷺ کو معیار بنانا چاہیے۔ نماز کے طریقے، وضو کے آداب اور حج کے مناسک کو مستند احادیث کی روشنی میں سیکھنا اور سکھانا چاہیے۔ اسی طرح اپنے اخلاق و معاملات میں بھی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔

9۔ اطاعتِ رسول ﷺ انبیاء، صدیقین اور صالحین کی معیت کا ذریعہ ہے : اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت کی خوش خبری سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا  ( سورۃ النساء: 69) ترجمہ:  اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، تو ایسے لوگ ان ہستیوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ یہ آیت اطاعتِ رسول ﷺ کے عظیم ثمرات میں سے ایک ثمرہ بیان کرتی ہے۔ دنیا میں انسان جس سے محبت کرتا ہے اور جس کے راستے پر چلتا ہے، آخرت میں بھی اسی کے ساتھ ہونے کی امید رکھتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ:  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کیا اور پھر عرض کیا کہ قیامت کے لیے میرے پاس بہت زیادہ نیک اعمال نہیں، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ ۔ترجمہ:  تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث: 3688؛ صحیح مسلم، حدیث: 2639)

حاصلِ کلام اور عصرِ حاضر کے لیے رہنمائی:  یہ آیت اور حدیث ہر مسلمان کے لیے امید اور بشارت کا پیغام ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت، آپ ﷺ کی اطاعت اور آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا انسان کو قیامت کے دن عظیم ہستیوں کی معیت کا مستحق بناتا ہے۔ آج ہمیں اپنی نسلوں کی تربیت اس انداز سے کرنی چاہیے کہ ان کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی محبت پیدا ہو اور وہ آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کے لیے نمونہ بنائیں۔ صرف رسول اللہ ﷺ کے نام سے محبت کا اظہار کافی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق، عبادات، معاملات، عادات اور تعلیمات کو اپنانا بھی ضروری ہے۔

اطاعتِ رسول ﷺ کے چند بنیادی عملی تقاضے:  قرآن و سنت کی مذکورہ تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اطاعتِ رسول ﷺ زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلمان کی پوری زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ عصرِ حاضر میں اطاعتِ رسول ﷺ کے چند اہم عملی تقاضے درج ذیل ہیں:

1۔ عبادات میں اتباعِ سنت نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، وضو، ذکر و اذکار اور دیگر عبادات کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ادا کیا جائے۔ عبادات میں اپنی طرف سے طریقے ایجاد کرنے کے بجائے سنتِ نبوی ﷺ کو معیار بنایا جائے۔

2۔ اخلاق و کردار میں اتباعِ رسول ﷺ رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کو اپنایا جائے۔ سچائی، امانت، وعدے کی پابندی، عفو و درگزر، رحم دلی، تواضع اور حسنِ معاشرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔

3۔ خاندانی زندگی میں اتباعِ رسول ﷺ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور گھر کے تمام افراد کے ساتھ محبت و شفقت کا معاملہ کیا جائے۔

4۔ معاشی معاملات میں اتباعِ رسول ﷺ تجارت اور کاروبار میں جھوٹ، دھوکا، ملاوٹ، سود، ناجائز منافع خوری اور ناپ تول میں کمی سے بچا جائے۔ حلال روزی کو ترجیح دی جائے اور لوگوں کے مالی حقوق کی حفاظت کی جائے۔

5۔ معاشرتی زندگی میں اتباعِ رسول ﷺ پڑوسیوں کے حقوق، کمزوروں کی مدد، یتیموں کی کفالت، محتاجوں کی دستگیری، بیماروں کی عیادت اور معاشرے میں امن و محبت کے فروغ کے لیے کوشش کی جائے۔

6۔ اختلافات میں اتباعِ رسول ﷺ مسلکی، فکری اور معاشرتی اختلافات کے باوجود ادب، احترام، عدل اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اختلاف کو دشمنی، نفرت اور انتشار کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

7۔ ڈیجیٹل زندگی میں اتباعِ رسول ﷺ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال میں بھی سنتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے۔ جھوٹی خبریں پھیلانے، بہتان تراشی، غیبت، کردار کشی، تمسخر اور دوسروں کی تذلیل سے اجتناب کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ ۔ترجمہ:  جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 6018؛ صحیح مسلم، حدیث: 47) اس حدیث کی روشنی میں سوشل میڈیا پر بھی ہر مسلمان کو اپنی زبان اور تحریر کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اطاعتِ رسول ﷺ اور عصرِ حاضر کے چند اہم چیلنجز : موجودہ دور میں اطاعتِ رسول ﷺ کے حوالے سے بعض ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اول: خواہشات کو شریعت پر ترجیح دینا:  بعض لوگ اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق دین کی تعلیمات کو قبول یا رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ مؤمن کا طرزِ عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع بنائے۔

دوم: سنتِ رسول ﷺ کو صرف عبادات تک محدود سمجھنا:  بعض اوقات سنت کو صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہماری خاندانی، معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور اجتماعی زندگی کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

سوم: محبتِ رسول ﷺ اور اتباعِ رسول ﷺ میں عملی فاصلے: رسول اللہ ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، لیکن اس محبت کا تقاضا آپ ﷺ کی اطاعت اور پیروی بھی ہے۔ ہمیں اپنی محبت کو عملی اتباع کے ذریعے ثابت کرنا چاہیے۔

چہارم: مستند دینی علم سے دوری: سوشل میڈیا کے اس دور میں غیر مستند روایات، غلط دینی معلومات اور من گھڑت احادیث تیزی سے پھیلتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات مستند علماء اور معتبر مصادر سے حاصل کی جائیں۔

پنجم: اجتماعی زندگی میں نبوی تعلیمات کو نظر انداز کرنا:  عدل و انصاف، حقوق العباد، دیانت داری، معاشرتی ذمہ داری اور باہمی احترام رسول اللہ ﷺ کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ ان تعلیمات کو اجتماعی زندگی میں نافذ کیے بغیر ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔

خلاصۂ کلام

 قرآنِ کریم کی مذکورہ آیات اور احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اطاعتِ رسول ﷺ ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا، اسے ہدایت کا ذریعہ بتایا، اپنی رحمت کے حصول سے وابستہ کیا، عظیم کامیابی کی سند قرار دیا، جنت میں داخلے کا سبب بتایا، اپنی محبت کے حصول اور گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ قرار دیا، ایمان کی علامت بنایا اور اس کے نتیجے میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت کی خوش خبری سنائی۔ یہ تمام فضائل اس بات کی دلیل ہیں کہ اطاعتِ رسول ﷺ محض ایک مذہبی شعار نہیں بلکہ ایک مسلمان کی پوری زندگی کا نظامِ عمل ہے۔ آج ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کے دعوے کے ساتھ آپ ﷺ کی تعلیمات پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں؟ کیا ہماری عبادات، معاملات، اخلاق، تجارت، معاشرت اور خاندانی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کی جھلک موجود ہے؟ اگر ہم واقعی دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو رہنما بنانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کو سمجھنے، رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کرنے، آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع اختیار کرنے اور آپ ﷺ کی سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 آمین یا رب العالمین۔

تدوین و ترتیب: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر: یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

اطاعت رسول، اطاعت رسول کی اہمیت، اطاعت رسول قرآن و سنت کی روشنی میں، محبت رسول، اتباع رسول، سنت نبوی، سیرت النبی ﷺ، قرآن و حدیث، فضائل اطاعت رسول، حقوق رسول، Itaat e Rasool, Itaat e Rasool ki Ahmiyat, Muhabbat e Rasool, Itteba e Rasool, Sunnat e Nabawi, Quran o Sunnat, Islamic Articles Urdu

 

Share:

11/3/26

Online Quran Classes at Home - Book Your Free Demo Class Now

گھر بیٹھے اپنے بچوں کو قرآن پاک کی درست تجوید کے ساتھ پڑھائیں! 🌟

کیا آپ بیرونِ ملک (امریکہ، کینیڈا، یو کے، یورپ، خلیجی ممالک) یا پاکستان میں مقیم ہیں اور اپنے بچوں کے لیے ایک بہترین اور مستند قرآنی پلیٹ فارم کی تلاش میں ہیں؟

"المعین ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اسلامک آئیڈیالوجی"

کے تحت آن لائن قرآن کلاسز کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں آپ کے بچے گھر بیٹھے باآسانی قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

✨ ہماری امتیازی خصوصیات:

 👨‍🏫 انتہائی تجربہ کار، ماہر اور تربیت یافتہ قاری حضرات اور حفاظ کرام۔

 🌍 بالخصوص بین الاقوامی (International) طلباء و طالبات کے لیے بہترین ترجیحی اوقات۔

 🇵🇰 پاکستان میں مقیم بچوں کے لیے بھی انتہائی مناسب فیس اور آسان شیڈول۔

 🎯 قاعدہ، ناظرہ، حفظِ قرآن اور تجوید و قرات کی خصوصی تربیت۔

 📚 اسلامی بنیادی تعلیمات، مسنون دعائیں اور کلمے بھی ساتھ سکھائے جاتے ہیں۔

💻 پرامن، محفوظ اور آسان آن لائن لرننگ ماحول۔

آج ہی اپنے بچوں کا مستقبل قرآن کی روشنی میں روشن کریں!

 📞 مفت ڈیمو کلاس (Free Trial Class) کے لیے آج ہی رابطہ کریں:

واٹس ایپ/رابطہ نمبر: +923005262557

ویب سائٹ:www.almoeen.org

ادارہ: المعین ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اسلامک آئیڈیالوجی

ہمارا مقصد: نسلِ نو کو قرآن سے جوڑنا

 

Share:

11/1/26

سورۃ العصر اور خسارے سے بچنے کا راستہ: سابقہ اقوام کی ہلاکت کے اسباب اور ہمارا کردار

اصل خسارہ کیا ہے؟ کہیں ہمارے نیک اعمال بھی تو ضائع نہیں ہو رہے!

وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (سورۃ العصر)

ترجمہ: زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر لوگ اس ایک سُورت (یعنی سورہ عَصْر) میں غور و فکر کریں تو انہیں یہی کافی ہے۔ آپ ہی کا ایک اور فرمان ہے کہ اگر اللہ پاک سورہ عَصْر کے عِلاوہ اور کوئی بھی دلیل نازِل نہ فرماتا ، تب بھی یہی نصیحت (دُنیا و آخرت کے لئے) کافِی ہو جاتی۔

اللہ تعالی نے زمانے کی قسم کھائی ہے: زمانے سے متعلق ارشاد فرمایا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَاِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی زمانہ (یعنی زمانے کا خالق) ہے۔(مسند الشهاب: 920)زمانے کو بر ابھلا نہیں کہنا چاہیے۔ انسان اور اس نے اپنے آپ کو بدلا ہے زمانہ ویسے کا ویسا ہی ہے جب سے معرض وجود میں آیا ہے۔ انسان نے اپنی عادات کو بدلا ہے معاشرہ خراب نہیں انسان خود خراب ہوا ہے ۔ انسان سارے کا سارا خسارے میں ہے سوائے  چار صفات کے ۔ ایمان ، اعمال صالحہ ، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین۔  

          ایمان کے بغیر کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے ۔ اعمال صالحہ کے بغیر صرف ایمان کافی نہیں ہے کیوں کہ جماعت صحابہ کا ایمان سب سے مضبوط ترین ہے لیکن ایمان کے باوجود صحابہ کا نماز روزہ حج  زکوۃ اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کرنا اس کا واضح ثبوت ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ ضروری ہیں۔ حق کی تلقین اور صبر کی تلقین دو مختلف جہات اور پہلووں کی طرف اشارہ ہے ایک حق ہے یعنی طاقت اور استطاعت جب ہوتی ہے تو انسان راہ راست پر رہے اور حق پر قائم رہے اس لیے تلقین کرتے رہیں اور صبر سے مراد وہ حالات کہ جب پریشانیاں ہوں تکلیفیں ہوں اور مصیبتیں آن پڑی ہوں تو صبر کی تلقین خسارے سے نکلنے کے لیے ضروری ہے ورنہ انسان طاقت ہو تو بے راہ روی کا شکار ہو سکتا ہے اور تکلیف اور پریشانی کی حالت میں بے صبری اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے اس لیے خسارے سے نکلنے کے لیے حق کی تلقین اور سبر کی تلقین کرتے رہنا خسارے سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے۔

خسارے کا تعلق دو پہلووں سے ہے :

۱۔     ایک کفر اور دوسرا اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یعنی کفر کو خسارہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ الزمر: 63)

اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں۔

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ال عمران: 85)

اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

ان آیات میں یہ واضح پیغام ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی آیات کا انکار کیا اور کفر کیا ، اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو پسند کیا تو وہ دائمی خسارے میں ہے ۔

۲۔     دوسرے پہلو میں خسارے کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت سے محرومی خسارہ ہے۔

قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ الاعراف: 149)

انہوں نے کہا اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور اور مغفرت نہ کرے تو ہم خسارہ والوں میں سے ہو جائیں۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ الاعراف:23)

دونوں نے عرض کی اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے۔

فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ البقرۃ:64)

اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔

وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ھود:47)

اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔

          ان درج بالا آیات میں واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت سے محرومی خسارہ کی علامت ہے یعنی جو بندہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم ہو گیا وہ خسارے میں ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم کون لوگ ہوتے ہیں۔

رحمت سے محرومی

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ"(صحیح بخاری:6013)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ (صحیح مسلم: 6030)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،" يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا اَهْلَ الْاَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ (سنن بی داود:4941)

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ اِلَّا مِنْ شَقِيٍّ (جامع ترمذی:1923)

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صرف بدبخت ہی (کے دل) سے رحم ختم کیا جاتا ہے“۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ فَاِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَاِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي (جامع ترمذی:2411)ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا۔اللہ تعالی سے دوری سے مراد اس کی شفقت اور رحمت سے دوری ہے۔ یعنی جو سخت دل ہو گا وہ اللہ تعالی کی رحمت سے محروم ہو گا۔

مغفرت اور بخشش سے محرومی

قرآن مجید کی آیات جو انسان کو مغفرت اور بخشش کی طرف راہنمائی کرتی ہیں اور انسان کو خبر دیتی ہیں کہ کون اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور مغفرت سے محروم ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا (سورة النساء:149)

اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے۔

وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة التغابن:14)

ان سے احتیاط رکھواور اگر معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة النور:22)

اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور دَرگزرکریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالی نے واضح فرمایا کہ تم لوگوں کو معاف کرو اگر چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تمہیں معاف کرے ۔ یعنی اگر لوگوں کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی بھی تمہیں نہیں بخشے گا ۔

آج ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرنا ہے اور اپنے اعمال اور کردار پر غور کرنا ہے کہ نماز ، روزہ ، حج اور صدقات و خیرات اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا عمل نہ کر رہے ہوں کہ جس سے ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہوں۔ اصل خسارہ یہ نہیں کہ ہمارے اعمال کم ہیں بلکہ اصل خسارہ یہ ہے کہ ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہیں اور ہمیں خبر ہی نہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مفلس کون ہے؟

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، اَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهٗ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ اُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهٖ وَصِيَامِهٖ وَزَكَاتِهٖ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَاَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ، فَاِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهٗ قَبْلَ اَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا اُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ (جامع ترمذی:2418)

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۔

          یعنی اعمال کرتے رہے نمازیں پڑھتے رہے ، روزہ رکھتے رہے، حج کرتے رہے ، صدقہ و خیرات کرتے رہے ، نیک اعمال کرتے رہے لیکن اس بات کی فکر ہی نہیں کی کہ وہ کام بھی کرتے رہے کہ جن سے اعمال ضائع ہوتے رہے اور فکر اور توجہ ہی نہیں۔

چٹی چادر عملاں والی اینوں داغ نہ لاویں جنیا

فیر حشر نوں ایہ نہ آکھیں مولا ایہہ کی بنیا

آئیے قرآن بتاتا ہے کہ سب سے بری خسارے والی بات کیا ہے سنیے گا کہ قرآن مجید کیا کہتا ہے:

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (سورۃ الکھف:103-104)ترجمہ: فرما دیجیے، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی، جبکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔یعنی اپنی طرف سے نیک اعمال کرتے رہے اور ان کو اچھا سمجھتے رہے لیکن جب ان اعمال کے حساب کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ سب خالی ۔ حضرت آئیں اپنے کردار کو دیکھیں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں دیکھیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سراسر خسارے میں ہیں اور سمجھ خود کو فائدے میں رہے ہیں۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ تم بھی سابقہ اقوام کی طرح کام کر رہے ہو وہ اپنے فائدے اٹھا گئے تم بھی وہی کر رہے ہو اور پھر ان کے اعمال دنیا میں ضائع ہو گئے اور وہ خسارے اتھانے والے ہو گئے ۔ اگر تم بھی انہیں کی روش اختیار کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہو گا  ارشاد فرمایا:

سابقہ اقوام کا انجام اور ہماری خوش فہمی:  سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا-فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ توبہ:69)ترجمہ: تمہارا حال ان لوگوں جیسا ہے جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں زیادہ تھے۔ پھر انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، سو تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا تھا، اور تم بھی اسی طرح کی باتوں میں پڑ گئے جس طرح وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے، اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

سابقہ اقوام کی ہلاکت کے اسباب :

قوم عاد: فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً( سورة حم السجدة:16)

تو وہ جو عاد تھے انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زورہے یعنی ہم سے زیادہ کون طاقت ور ہے؟۔

قوم لوط: وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (سورة الاعراف:80)

اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔

قوم شعیب: قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ (سورة الاعراف:85)

بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ۔

قوم فرعون: فَاَرٰىهُ الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى ۔ فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۔ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى۔ فَحَشَرَ فَنَادٰى۔ فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى(سورة النازعات:20-24)

پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی۔ تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر اس نے (مقابلے کی) کوشش کرتے ہوئے پیٹھ پھیر دی ۔ تو (لوگوں کو) جمع کیا پھر پکارا۔ پھر بولا: میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں۔

 یعنی وہ وہ اعمال ہیں جن کی وجہ سے سابقہ قومیں ہلاک ہوئیں اور ان کا کرادر اللہ تعالی بیان فرماتا ہے اور ساتھ تنبیہ فرماتا ہے کہ تم خیال کرو کہیں تم بھی ان کی روش پر تو نہیں چل رہے اگر ایسا ہوا تو جس طرح وہ خسارے میں رہے اسی طرح تم بھی خسارے میں رہو گے۔

اللہ پاک ہم سب ہدایت نصیب فرمائے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

 تحقیق و تدوین : محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ دی سکالر : یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

 

Share:

تین روزہ آن لائن تربیتی ورکشاپ

تین روزہ آن لائن تربیتی ورکشاپ
تحریری و تحقیقی کام میں مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive