Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

8/29/25

The Power of Positive Thinking: How to Transform Your Mindset

The Power of Positive Thinking: How to Transform Your Mindset. One of the most important questions we can ask ourselves is: How do I know if my mind is set in a positive mindset or a negative one? This is a crucial step because people who ask such questions are truly interested in self-improvement and personal growth.



 
Identifying Your Mindset
The easiest way to identify your mindset is to observe your first response. When you hear some news, plan a project, think about starting a business, or even prepare for a trip—how does your brain respond? If your immediate reaction is filled with doubt, fear, or negativity, then your mindset is negative. But if your reaction includes positive thoughts, hope, and confidence, then you already have a positive attitude and a positive mental attitude.



Feeding Your Mind the Right Input      
Our brain functions based on what we feed it through two main inputs: the eyes and the ears. If we constantly consume negative news, toxic conversations, or discouraging content, our mindset naturally turns negative. On the other hand, if we choose uplifting stories, motivational speeches, or positive mindset quotes, our thinking becomes optimistic.

This is the essence of changing negative thoughts to positive—it all starts with controlling your input.



The Power of Positive Thinking     
The concept of the power of positive thinking was made famous by Norman Vincent Peale in his classic book The Power of Positive Thinking by Norman. His teachings highlight that anyone can build a positive mental attitude and achieve success through a positive mental attitude by focusing on affirmations for positive thinking and daily positive thinking exercises.



Even short practices such as reading short positive thinking quotes, listening to the power of positive thinking audio, or completing a positive self talk worksheet can reprogram the subconscious mind. These positive thinking techniques are simple yet effective ways to practice the power of positive living.



Practical Steps to Build a Positive Mindset   
1. Read: Start your day with a few lines of positive mindset quotes or a book on motivation.

2. Listen: Use podcasts or the power of positive thinking audio while commuting.
         
3. Write: Maintain a positive self talk worksheet where you replace negative phrases with empowering ones.

4. Affirm: Repeat affirmations for positive thinking to strengthen your belief system.
         
5. Practice: Apply positive thinking exercises in daily life—gratitude journaling, visualization, or mindful breathing.




Conclusion
Ultimately, the power of positive thinking is not just about repeating nice words. It’s about creating a deliberate shift in perception. By monitoring our input, applying positive thinking techniques, and practicing affirmations for positive thinking, we can change our responses and enjoy the benefits of a positive mindset.

Remember: Change your input, and you will change your life.

Writer: Muhammad Sohail Arif Moeeni (PHD Scholar @ University of Education Lahore)

 

Share:

8/28/25

ز رحمت کن نظر بر حال زارم یا رسول اللہ | مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ


 

ز رحمت کن نظر بر حال زارم یا رسول اللہ

 غریبم بے نوایم خاکسارم یا رسول اللہ

 

 میرے حالِ زار پر رحمت کی نظر کریں یارسول اللہ، میں غریب ہوں بے نوا ہوں خاکسار ہوں یارسول اللہ۔

 

 ز داغ ہجر تو کہ دل فگارم یا رسول اللہ

 بہار صد چمن در سینہ دارم یا رسول اللہ

 

 آپ کے ہجر کے داغ سے میرا دل مجروح ہے یارسول اللہ، میرے سینے میں سیکڑوں چمن کی بہاریں موجود ہیں یارسول اللہ۔

 

 توئی تسکین دل آرام جاں صبر و قرار من

 رخ پر نور بنما بے قرارم یا رسول اللہ

 

آپ ہی میرے دل کا چین، محبوب اور صبر و قرار ہیں، اپنے روۓ پرنور کی زیارت کروايۓ کہ میں مضطرب‏ ہوں یارسول اللہ۔

 

 توئی مولائے من آقائے من والی و جان من

 توئی دانی کہ جز تو کس ندارم یا رسول اللہ

 

 آپ ہی میرے آقا و مولا، میرے مالک و جان ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سوا میرا کوئ سھارا نہیں ہے یارسول اللہ۔

 

دم آخر نمائی جلوۂ دیدار جامیؔ را

ز لطف تو ہمیں امیدوارم یا رسول اللہ

 

جامی کا وقت آخر نزدیک ہے اب تو اپنے دیدار سے فیضیاب کرائے کہ میں صرف آپ ہی کے لطف و کرم کا امیدوار ہوں یارسول اللہ۔

Share:

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے | lahad men wo soorat dikhai gai hai | Kuliyat e Naseer


 

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے

مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے

 

نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا

تو کیوں بزمِ عالم سجائی گئی ہے

 

صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت

بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے

 

یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی

ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے

 

وہاں تھی فدا مصر میں اک زلیخا

یہاں صدقے ساری خدائی گئی ہے

 

گنہگار اُمت پہ رحمت کی دولت

سرِحشر کھل کر لٹائی گئی ہے

 

شراب طہور اُن کے دست کرم سے

سرِ حوض کوثر پلائی گئی ہے

 

تہ خاک ہو شاد کیوں کر نہ اُمت

نبی کی زیارت کرائی گئی ہے

 

کسے تاب نظارہ جالی کے آگے

نظر احتراماً جھکائی گئی ہے

 

نصیر اب چلوقبرسے تم بھی اُٹھ کر

اُنہیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے

Share:

8/24/25

مجھ پہ بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا | Mujh pe bhi chashm e karam with Tazmeen کلام پیر نصیر الدین نصیر


 

کالی کملی میں اس امت کو چھپایا کرنا

ان کی عادت ہے کہ عاصی کو نبھایا کرنا

میں برا ہوں تو کرم سے مجھے اچھا کرنا

مجھ پہ بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا

 

میں سوالی ہوں میرے حق میں اشارہ دینا

میں بھنور میں ہوں میرے شاہ کنارہ دینا

میں ہوں بے چین مجھے چین خدارا دینا

میں ہوں بے کس تیرا شیوہ ہے سہارا دینا

میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا

 

 

سارے عالم کو ملا فیض جو تیرے گھر سے

یہ ہے وہ ابر کرم سب پہ برابر برسے

کیوں گدا تیرا کسی چیز کی خاطر ترسے

تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے

کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

 

میں نہیں کہتا مجھے کم یا زیادہ دے دے

جتنا اچھا لگے تجھ کو مجھے اتنا دے دے

اے کریم آل کا تیری مجھے صدقہ دے دے

میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے

کہ تیرے بس میں قطرے کو بھی دریا کرنا

 

جن رحمت ہے کثیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

جن کے در کا ہوں فقیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

کیوں مدثر ہو حقیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

مجھ پہ محشر میں نصیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا

Share:

8/22/25

عربی گرامر | تسہیل النحو | افعال قلوب و تصییر | Arabic Grammar | afaal Quloob o tasyeer

افعال قلوب

وہ افعال ہیں ، جو مبتدا اور خبر پر داخل ہوکر ان کو بوجہ مفعولیت نصب دیتے ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں

۱۔افعال قلوب   ۲۔ افعال تصییر

افعال قلوب:

قلوب قلب کی جمع ہے قلب کامعنی دل ہے۔ چونکہ ان افعال کا تعلق دل سے ہوتا ہے ، ہاتھ پاوں اور دیگر اعضاء ظاہری کو ان کے واقع کرنے میں کوئی دخل نہیں ہوتا اس لیے انہیں افعال قلوب کہتے ہیں۔ نیز چونکہ ان میں شک اور یقین کے معانی پائے جاتے ہیں اس لیے ان کو افعال شک و یقین بھی کہتے ہیں اور یہ سات ہیں:

۱۔ عَلِمَ ۲۔ رَاٰی ۳۔ وَجَدَ

ان تین افعال کو افعال یقین کہتے ہیں ، جیسے رَایتُ الصلحَ خَیراً (میں نے صلح کو اچھا یقین کیا۔

۴۔ حَسبَ ۵۔ظَن ۶۔ خَالَ

ان کو افعال شک کہتے ہیں جیسے ظننتُ الماءَ بارداً (میں نے پانی کو ٹھنڈا گمان کیا)

۷۔ زَعَمَ یہ کبھی شک کے لیے آتا ہے جیسے زعمتُ الشیطانَ شکوراً ( میں نے شیطان کو شکر کرنے والا گمان کیا) اور کبھی یقین کے لیے آتا ہے جیسے زعمتُ اللہَ غفوراً ( میں نے اللہ کو بخشنے والا یقین کیا)

عمل کی تفصیل

یہ مبتدااور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور دونوں کو بوجہ مفعول بہ نصب دیتے ہیں جیسے علمتُ الجوَّ معتدلاً ، ظننتُ الشجرَ مُثمراً ان مثالوں میں الجوَّ معتدلاً اور الشجرَ مثمراً مفعول بہ ہونے کے اعتبار سے منصوب ہیں۔

ان کے عمل کی تین صورتیں ہیں :

۱۔ اعمال: اس کا معنی یہ ہے کہ مذکورہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کے دونوں جزوں کو نصب دیں بشرطیکہ کوئی مانع موجود نہ ہو، جیسے علمتُ اللہَ غفوراً

۲۔ تعلیق: (معلق کرنا) اس کا معنی یہ ہے کہ یہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل تو ہوتے ہیں مگر مانع کی موجودگی میں اس جملہ میں لفظا عمل نہیں کرتے البتہ وہ جملہ محلاً منصوب ہوتا ہے، اور اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:

جب مبتدا اور خبر سے پہلے حرف نفی ،ما ، لا ،اِن نافیہ، لام ابتدائئیہ اور کلمات استفہام میں سے کوئی آ جائے، جیسے لقد عَلمتَ مَا ھؤلاء یَنطقونَ، ظَنَنتُ لَزَیدٌ قَائمٌ وغیرہ، ان مثالوں میں مَاھؤلَاء یَنطقونَ اور لَزَید قَائم محلا منصوب ہیں۔

۳۔ الغاء: (باطل کرنا) اس کا معنی یہ ہے کہ افعال قلوب مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں مگر دونوں میں نہ تو لفظا عمل کرتے ہیں اور نہ معناً اس کی درج ذیل صورتیں ہیں :

(۱) جب یہ افعال مبتدا اور خبر کے درمیان آ جائیں جیسے زیدٌ علمتُ فاضلٌ

(۲)  جب مبتدا اور خبر کے بعد آ جائیں، جیسے الجوُّ معتدلٌ علمتُ

ضروری وضاحت

        افعال قلوب کے دو مفعولوں میں سے جب ایک کا ذکر کیا جائے تو دوسرے کا ذکر کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں مفعول بہ کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ مگر جب ظنَّ بمعنی اتَّھمَ (اس نے تہمت لگائی) علم بمعنی عَرَفَ اور وَجَدَ بمعنی اَصَابَ (اس نے پایا) اور رَای بمعنی اَبصَرَ کے ہوں تو مفعول کو نصب دیتے ہیں اور اس وقت یہ افعال قلوب نہیں ہوتے۔ جیسےوَجَدتُ الضَالَّۃَ ( میں نے گم شدہ چیز کو پا لیا) عَلمتُ زَیداً (میں نے زید کو پہچان لیا) رَایتُ جَبَلاً (میں نے پہاڑ کو دیکھ لیا)۔

افعال تصییر

وہ افعال ہیں جو کسی چیز کو اس کی اصلی حالت سے پھیرنے کے لیے آتے ہیں یہ بھی مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور ان کو بوجہ مفعلویت نصب دیتے ہیں، یہ درج ذیل ہیں:

صیّر ، اتخذم جعل ، خلق ، ترک جیسے جَعَلَ اللهُ الْأَرْضَ فِرَاشًا ، انہیں افعال تحویل بھی کہتے ہیں ، ان افعال میں تعلیق جائز نہیں ہے۔

 مزید مثالیں ١. وَاتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ٢. صَيَّرْتُ الطِّينَ خَزَفًا ٣. تَرَكْتُ الرَّجُلَ حَيْرَانَ ٤. خَلَقَ اللهُ الْأَرْضَ وَاسِعَةً

 

Share:

8/20/25

سلام احمد رضا خان تضمین کے ساتھ | مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام | جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند


 

جب ہوا ضَوفگن دین و دنیا کا چاند

آیا خلوت سے جلوت میں اسریٰ کا چاند

نکلا جس وقت مسعودِ بطحا کا چاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

 

فرش پر آگیا عرشِ اعلیٰ کا چاند

خلد و فردوس گل زارِ ماویٰ کا چاند

بزمِ مخلوق میں دین و دنیا کا چاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں

 

آسمانِ دنا فتدلیٰ کا چاند

رشکِ خورشید چرخ فاوحیٰ کا چاند

 وہ شبِ سعد و پُرنور اسریٰ کاچاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

 

سرنگوں جملہ شاہانِ اعظم رہے

 سر جھکائے ہوئے قیصر و جم رہے

 خاک پہ کج کلاہانِ عالم ہے

جس کے آگے سرِ سروراں خم رہے

 اُس سرِ تاجِ رفعت پہ لاکھوں سلام

 

جس کارتبہ سرِ حشر بالا رہا

جس پہ شانِ کریمی کا سایہ رہا

پیشِ داور جو محشر کا دولہا رہا

جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا

اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

 

سائلِ در کو بہتر سے بہتر دیا

ذرّہ مانگا کسی نے تو گوہر دیا

 الغرض دامنِ زندگی بھر دیا

ہاتھ جس سمت اٹھّا غنی کردیا

 موجِ بحرِ سماحت پہ لاکھوں سلام

 

جس طرف سے بھی گذرے رسولِ حشم

ذرّۂ خاکِ طیبہ ہوا محترم

اِس قدر محترم وہ نقوشِ قدم

 کھائی قرآں نے خاکِ گذر کی قسم

 اُس کفِ پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام

 

وہ دوعالم کے سلطان صل علیٰ

 عرشِ اعظم کے مہمان صل علیٰ

جن کا دنیا میں بستر رہا بوریا

کل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا

اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

Share:

8/15/25

مذہبی انتشار کی وجہ |Cause of religious discord

موجودہ دور میں مذہبی انتشار کے پیچھے کون سا  قانون کارفرما ہے؟

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے سطحی علم کی بنیاد پر ایک عقیدہ یا تصور باندھ لیتا ہے اور پھر اس پر مختلف طرح کے دلائل قائم کرتا ہے اور اسی عقیدہ و تصور کو مضبوط کر لیتا ہے، اس کے پیچھے کچھ محرکات ہو سکتے ہیں مثلا:

·       پہلے سے موجود تصور کے مخالفت میں نئے تصور میں دلچسپی زیادہ ہوتی ہے

·       نئے تصور کو قائم کرنے سے حاصل ہونے والے فوائد ملحوظِ خاطر ہوتے ہیں

·       کسی بیرونی دباو کی بنیاد پر نیا تصور قائم ہوتا ہے

·       اپنی جبلی نفسیاتی تسکین کی وجہ سے نیا تصور قائم ہوتا ہے

·       حقیقتاً پہلے تصور کی نسبت دوسرا تصور درست ہوتا ہے اور اس کا پرچار مقصود ہوتا ہے

ان کے علاوہ بھی کئی محرکات ہو سکتے ہیں!۔۔۔

اب اگر شومئی قسمت وہ تصور اور عقیدہ غلط ہو تو انسان کو یہ قطعا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غلط راست پر چل نکلا ہے بلکہ اس  کو ہمیشہ یہی احساس رہتا ہے کہ وہ جو کر رہا ہے وہ ہی درست ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں بیسیوں مقام پر اس طرح کا کلام ملتا ہے کہ ’’ شیطان نے ان کے لیے ان اعمال مزین کر دیے ہیں اور وہ خود کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ وہ گمراہی کی منزل کے راہی ہوتے ہیں‘‘۔ کئی مقامات پر ایسا کلام ملتا ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہو چکے ہوتے ہیں اور انہیں خبر تک نہیں ہوتی ‘‘ اس کے پیچھے بھی دراصل وہی بات ہوتی ہے کہ انہیں یہ شعور ہی نہیں رہتا کہ وہ غلط راہوں پر چل نکلے ہیں اور اپنے کام اور راستے کو ہی درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے ؟۔۔۔

اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا:

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ (سورۃ البلد:10)، فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا (سورۃ الشمس:8)، اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا (سورۃ الدھر:3)

یعنی دونوں راستوں سے متعلق انسان کو بتا دیا گیا ہے،  اب جو کیفیت انسان کے دل پر غالب ہو گی انسان کے عقائد و نظریات کا رخ ادھر ہی کا ہو گا۔ اب سوال یہ کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟تو ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان کے دل و دماغ پر منفی قوتوں کا غلبہ ہوتا ہے ، فجور ، باطل اور طاغوت انسانی دل کو اپنے شکنجے میں جکڑ چکے ہوتے ہیں اور انسان پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا، کیوں کہ وہ جب بھی غیر جانب دار ہو کر سوچنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ڈانٹ دیا جاتا ہے اور لگامیں کھینچ لی جاتی ہیں، کبھی دلائل کی صورت میں کبھی خود پرستی کی صورت میں، اس طرح ہدایت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

اپنی غلطی کا احساس کیسے ہو؟؟

آپ اپنی ذات پر غور کریں کہ جب کبھی آپ کسی اپنے سے اچھے انسان کو دیکھتے ہیں ، اس کے بارے میں سنتے ہیں ، کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں جو کہ آپ کو حاصل نہیں ہے، کبھی کوئی منصوبہ بناتے ہیں !!! تو ان ساری صورتوں میں اگر آپ کو سب سے پہلے منفی خیالات دماغ میں ابھرتے ہیں تو یقینا ً آپ پر منفی قوتوں کا غلبہ ہے تو فیصلہ آپ خود کر لیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں ۔۔۔ لیکن یہ سب کچھ تب کار آمد ہو گا اگر آپ اخلاص کے ساتھ یہ کام کریں گے اور اپنی ذات کے لیے مخلص ہیں تو ان تمام معاملات کا نیتجہ بھی آپ کو سو فیصد ملے گا ،،، اب اس تحریر کا ہی معاملہ لے لیں کہ آپ کو تحریر پڑھنے کے دوران دماغ میں منفی خیالات ابھر رہے ہیں یا مثبت؟؟؟؟؟؟

اس کیفیت سے نکلنے کی عملی تدابیر

 علم کے مصادر کی تصحیح :  قرآن و سنت اور اہلِ علم کے معتبر فہم سے استفادہ، غیر مستند ذرائع سے بچاؤ۔

نقدِ ذات (Self-Criticism) :  اپنی رائے پر بار بار نظرثانی، بجائے اس کے کہ اس کو تقدس کا درجہ دے دیا جائے۔اپنی نفی کریں اپنے دماغ کی نفی کریں اور معاملات پر نظر ثانی کریں دوبارہ نئے سرے سے پرکھیں۔

 اہلِ تقویٰ کی صحبت :  نیک اور سنجیدہ لوگوں کی مجلس میں رہنا دل کو کھولتا اور نظر کو تیز کرتا ہے۔

 دعائے ہدایت :  نبی ﷺ کی کثرت سے پڑھی جانے والی دعا: يَا مُقَلِّبَ القلوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ (ترمذی)

 

          یاد رکھیں تزکیہ نفس بہت مشکل ہوتا ہے ، اس میں سب سے پہلے اپنی ذات کی نفی کرنا ہوتی ہے ، خود کو قصور وار سمجھنا ہوتا ہے ، خود کو حقیر جاننا ہوتا ہے ، پھر اس کو لاحق بیماری کا اقرار بھی ضروری ہے ، اس بیماری کے موذی ہونے کا بھی اقرار کرنا ہوتا ہے  ، بیماری کے لاحق ہونے میں بھی خود کو ذمہ دار ٹھہرانا ہوتا ہے، یعنی یہ ساری صورتیں اپنی نفی سے ہوتی ہیں جب انسان اپنی نفی کر دیتا ہے تو یہ سب باتیں آسان ہو جاتی ہیں ورنہ انسان وہیں کا وہیں کھڑا رہ جاتا ہے!!!۔۔۔جب انا کی عمارت دھڑام سے گرتی ہے تو تزکیہ نفس کا آدھا مرحلہ طے ہو جاتا ہے، ایک ہی جست میں سفر آدھا طے ہو جاتا ہے۔اب سیکھنا یہ ہے کہ یہ بے لگام نفس کا گھوڑا کس کس طریقے سے آپ پر حملہ آور ہو سکتا ہے اور اس سے بچنا کیسے ہے؟؟؟۔۔۔۔

تحریر: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر: یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

 

Share:

8/10/25

دین اسلام اور ہمارا مزاج | اہل مغرب دین سے متنفر کیوں؟ |نوجوان دین سے متنفر کویں؟

دین کے معاملات میں شخصی مزاج کی شمولیت

جب آپ دین کے معاملات میں اپنے مزاج کو داخل کرتے ہیں تو نظام بگڑ جاتا ہے ۔ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ، تشویش لاحق ہونے لگتی ہے، سوالات جنم لیتے ہیں اور دین کا اپنا حقیقی مزاج مجروح ہونے لگتا ہے!!!!

ان الفاظ سے سوال پیدا ہوتا ہے دین کے معاملات میں مزاج کے داخل ہونے سے کیا مراد ہے؟

تو سنیے!! اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل اور شعور سے نوازا ہے اور ایک دماغ دیا ہے جو کہ ہر انسان کا اپنے ماحولیاتی، خاندانی اور سماجی اثررات کی بدولت مختلف ہے اور بغیر کسی اختلاف رائے کے ہر انسان کی سوچ اور سوچ کا زاویہ مختلف ہے، ہر انسان اپنی ترجیحات ، خواہشات ، پسند و ناپسند اور رجحانات کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ (اس پر بے شمار سائنسی ،نفسیاتی ، مذہبی اور معاشرتی دلائل موجود ہیں)

بلکل ایسے ہی جیسے پانی اور مٹی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں لیکن زمین سے مختلف قسم کی نباتات وجود میں آتی ہیں۔  اسی طرح جب ایک حدیث اور قرآنی آیت اس دماغ میں جاتی ہے تو اس کا عکس دماغ اپنے مزاج سے لیتا ہے۔ (ممکن ہے دماغ وہی عکس لے رہا ہو جو دین کا مزاج ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بلکل اس کے بر عکس ہو) ۔ معاشرے میں موجود  مذہبی اختلافات اور لڑائی جھگڑے میرے اس دعوے کا ثبوت ہیں۔

جو میں نے سمجھا وہی درست ہے

اس دور میں رسوائی والی بات یہ ہے کہ ہر شخص یہ کہتا ہے کہ جو میں نے سیکھا جو میں نے سمجھا وہی درست اور کامل ہے اور اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ جس طرح آپ کے دماغ نے عکس بنایا ہے  اسی طرح کوئی اور دماغ بھی عکس بنا سکتا ہے، اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ حقیقت میں درست کیا ہے؟ (اس سوال کا جواب ہے:  دین کا مزاج فیصلہ کرے گا)

یہی تصور کہ جو میں نے سمجھا یا سیکھا یا جو میرے اسلاف نے سمجھا اور سیکھا وہی حقیقت ہے یہ تصور ہی مزاج ہے جو دین میں داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے  (یاد رہے میری اس تحریر میں علما اور عوام کے درمیان جو ایک خلا پیدا ہو رہا ہے اس کے آر پار دونوں گروہوں کی آپس کی کشمکش ہے)

 

دین میں شخصی مزاج کی کوئی گنجائش نہیں

          جناب رسالت ماب ﷺ نے بھی اللہ تعالی سے آنے والےاحکامات میں اپنے مزاج کو داخل نہیں ہونے دیا، جس طرح اللہ جل شانہ سے نازل ہوا اسی طرح لوگوں کو پہنچا دیا ، کمال کی دیانت داری ہے کمال کی امانت داری ہے ، کمال کی صاف گوئی اور حق بیان کرنے میں بے باکی ہے، کمال ہے کہ سورہ عبس کی ابتدائی آیات بھی امت کو سنا دیں، اپنے بیٹی کا نام لے کر فرما دیا کہ اگر چوری کرے گی تو ہاتھ کاٹے جائیں گے ، کمال کی دیانت داری ہے ایسے واقعات اور بیانات ہمیں بتاتے ہیں کہ دین میں اپنے مزاج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دین کو ویسے ہی لینا ہو گا جیسے یہ نازل ہوا ہے  اسی لیے تو حکم دیا گیا ہے ، ادخلوا فی السلم کافۃ۔۔۔۔۔۔اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو اور اگر جھگڑا ہو جائے تو  اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔۔۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کا مزاج جھگڑے ختم کرتا ہے مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جھگڑے ہی اللہ اور اس کے رسول کے  نام پر ہو رہے ہیں اور انہیں معاملات میں جھگڑے جن معاملات نے جھگڑے ختم کرنے ہیں تو یہ جھگڑوں کا ہونا اور معاملات کا دن بدن  دیگر گوں ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہم دین میں اپنا مزاج داخل کرنے کے چکر میں ہیں ۔۔۔

جب یہ کہا جائے کہ!!  اس حدیث کا مطلب یہ نہیں، یہ ہے، اس آیت سے مراد یہ نہیں یہ ہے ۔چار بندے مختلف نکتہ نظر رکھتے ہوں تو اس کا مطلب ہے ہر کوئی اپنے مزاج کی پیروی کر رہا ہے، ہر کوئی اپنے مزاج کو درست منوانے پر تُلا ہوا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس حدیث یا آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے ، اس حکم کو اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے اُس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے ، پھر بھی بات قابلِ برداشت ہے لیکن جو یہ دعوی کر دیا جاتا ہے کہ نہیں اس کا صرف یہی درست مطلب ہے جو میں بیان کر رہا ہوں یا میرے اسلاف نے جوبیان کیا ہے اس کے علاوہ سب غلط ہیں تو یہ رویہ نہ تو دین ہے اور نہ ہی دین کی عکاسی کرنے والا ہ۔

 اس بحث میں یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح تو کچھ لوگ احکام دین کی غلط تعبیرات لیتے ہیں تو پھر وہ بھی درست ہوئے جیسا کہ ہر دور میں اسلام دشمن طاقتیں کرتی رہی ہیں خاص طور پر مستشرقین اور منکرین حدیث مفہوم لیتے ہیں اور عقل کی پیروی میں دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ  دیتے ہیں تو اس کے جواب میں گزارش یہ ہے کہ ۔۔۔۔ غلط اور صحیح کی صورت میں نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں دین کا مزاج سیکھنا ہو گا ، دین کا اسلوب سیکھنا ہو گا  ۔

 یقینا یہ کام انتہائی مشکل ہے  اس کام کے لیے آپ کو !!!!!!! مسلکی ، گروہی ، خاندانی ، شخصی بنیادوں سے بہت اوپر جا کر سوچنا ہو گا ۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تجدید ایمان کرتے ہوئے کلمہ پڑھ کر خود کو نچلی سطح پر بیٹھا کر جیسے ابھی ابھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں ایسی سوچ لے کر بیٹھنا ہو گا نہ  یہ کہ میں نے دس سال درس نظامی پڑھا ہے، میں شیخ الحدیث و التفسیر ہوں، مجھے پچاس سال ہو گئے دین پڑھاتے ہوئے،میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن گیا ہوں ، میں نے مفتی کورس کر لیا ،میں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کر لیا، لوگ میرے ہاتھ چومتے ہیں ، میرے دائیں بائیں گھومتے ہیں یہ سب باتیں انسان کو گمراہ کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتیں۔

مغرب میں اہل مغرب دین سے متنفر کیوں ہوئے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

          اس سوال کا جواب لینے کے لیے کبھی اس اندز میں بھی سوچیں کہ آیا وہ مذہب جو مذہب کے پیشواوں نے پھیلایا تھا ، جس کی تعلیم اس مذہب کے پیشوا نے دی تھی  اگر سیدھی بات کی جائے تو کیا اہل مغرب کے ہاں اس وقت وہی مسیحیت (کہ جس سے اہل مغرب متنفر ہوئے تھے اور مذہب کو چھوڑا تو ترقی کی)  رائج تھی جو جناب مسیح عیسیٰ علیہ السلام نے پھیلائی تھی ، کیا اس وقت مذہب کے ٹھیکیدار مسیحیت کے مزاج کے مطابق فیصلے کرتے تھے یا اپنے مزاج کو ہی مذہب بنا کر پیش کرتے تھے ، جو اندھیر نگری یورپ میں ’’ڈارک ایجز‘‘ میں مچی ہوئی تھی اور پاپائیت اپنے عروج پر تھی کیا وہ  وہی مذہب تھا جس کی تعلیمات جناب مسیح ابن مریم علیھما السلام دے کر گئے تھے۔ ہر گز نہیں اس وقت لوگ اس مذہب سے متنفر ہوئے تھے جس میں پاپاوں کے مزاج  کی پیروی ہوتی تھی ، مذہبی تعلیمات مفقود تھیں اور مذہبی رہنماوں کی انائیں اور من مرضیاں ہی مذہب کا روپ دھار کر  معاشرے پر مسلط تھیں ۔ اس وقت لوگوں نے اسے ہی مذہب جانا اور اس سے متنفر ہوئے۔

                ہر گز کوئی الہامی مذہب فطرتی اصولوں کے خلاف نہیں ہوتا ۔

          اس دور میں دین اسلام کے حوالے سے لوگ چند طبقات میں تقسیم ہو گئے ہیں:

·       پہلا طبقہ وہ جو روایت پسند اور حقیقی معنوں میں اسلام کی پیروی چاہتا اور کرتا ہے

·       وہ طبقہ جو اپنی جہالت کی وجہ سے دین اسلام سے متنفر نظر آتا ہے

·       وہ طبقہ جو  چند مذہبی رہنماوں کے رویے کی وجہ سے دین سے دور نظر آتا ہے

·       وہ طبقہ جو دشمن کا آلہ کار نظر آتا ہے اور اس طبقے کے پھیلائے ہوئے تشکیک و تنقید کے ہتھکنڈے سے چند لوگ دین کواس سائنسی ترقی کے دور میں ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھتے اور مثال یورپ کی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے دین سے دوری اختیار کی تو ترقی کی (حالانکہ یہ سراسر غلط نظریہ ہے)

نتیجہ اور عملی تجاویز

 دین کی اصل روح تبھی باقی رہ سکتی ہے جب ہم:

·       شخصی مزاج کو دین سے الگ رکھیں۔

·       دین کو اصل مصادر (قرآن و سنت) سے سیکھیں۔

·       مسلکی یا ذاتی تعصبات سے بالاتر ہو کر تحقیق کریں۔

·       اختلافِ رائے میں عاجزی اختیار کریں دوسروں کی رائے کا احترام کریں۔

·       دین کا مزاج سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کو معیار بنائیں۔


تحریر : محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر، یونیورسٹی آپ ایجوکیشن لاہور)


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive