Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

1/11/26

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

 

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

ابن رشد کے نزدیک سیاسی آزادی

                    ابن رشد نے ایک ایسے دور میں سیاسی آزادی کی فکر پیش کی جب ہر طرف سیاسی تسلط کا دور دورا تھا۔خود ابن رشد کو اپنی فلسفیانہ افکار کی وجہ سے صعوبتوں سے گزرتا پڑا اور جلا وطنی کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں لیکن اسکے باوجود انہوں نے سیاسی آزادی کے نقطۂ نظر کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا۔اور جہاں اس کی فکری بنیادوں کو استوار کیا وہیں اپنی معاصر سیاسیات پر بھی نقد کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کیسے بعض اوقات سیاسی آزادی محض ایک فریب ہوتی ہے اور حقیقی سیاسی آزادی کیسے اس سے مختلف ہوتی ہے۔اپنے دور کی سیاست پر انتقادی تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:

جو دور حکومت ہماری سرزمین یعنی قرطبہ پر سن پانچ سو سال کے بعد قائم ہواوہ جمہوری طرزِ حکومت کے قریب قریب تھا۔ سن پانچ سو چالیس کے بعد یہ آمریت میں بدل گیا۔

          ابن رشد جب سیاسی آزادی کے بارے میں بات کرتےہیں  تو اس کے متوازی سماجی آزادی کی بات بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔جب ابن رشد آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس سے طبعی طور پر سماجی آزادی کے در بھی وا ہوتے ہیں۔جب وہ بدترین حکومت میں جمہور کی آواز کو دبانے کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس وقت وہ سیاسی آزادی ہی کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ابن رشد کے نزدیک آمریت واستبداد کے دور میں اہل علم وفضل ظلم کا شکار ہوتے ہیں:

’’ یہ بھی ظلم ہے کہ عادل ونیک اور تمام اہل فضل ودانش کو ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔‘‘              

سیاسی مساوات

کسی بھی معاشرے میں سیاسی برابری اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس معاشرے میں سیاسی آزادی کس قدر ہے اور نظام حکومت بہتر ہے یا بدتر۔ابن رشدنے جہاں مدینہ فاضلہ یا اچھی حکومت کے اوصاف گنوائے اور اس کی فکری بنیادوں کو واضح کیا،وہیں اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ کوئی بھی مملکت اس وقت تک بہتر مملکت کہلانے کی حق دار نہیں جب تک اس کے شہریوں کو ہر ہر لحاظ سے سیاسی مساوات حاصل نہ ہو۔اگر کوئی مملکت ظلم وستم کرتی ہے اور اپنے شہریوں کو سیاسی مساوات نہیں دیتی یا دولت و جاگیر کی بنا پر یا صنف کی بنیاد پر سیاسی درجہ بندی کرتی ہے تو وہ مملکت واضح طور پر بدترین حکومت ہے۔ابن رشد نے مختلف مثالوں سے اس امر کو واضح کیا کہ جس مملکت میں جس قدر زیادہ یا کم سیاسی مساوات ہوگی،اس مملکت کے بہتر یا بدتر ہونے کی درجہ بندی اسی لحاظ سے کی جائے گی۔اسی ضمن میں ابن رشد نے عورت اور مرد کی سیاسی برابری کی بات کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی عدم موجودگی کی طرف بڑے درد دل کے ساتھ اشارہ کیا اور عورتوں کے پیچھے رہ جانے اور معاشرے میں فقر وافلاس کی افزودنی کا تجزیہ بھی پیش کیا:

ترجمہ:ہمارا موجودہ طرز حیات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم عورتوں کی چھپی ہوئی صلاحتیوں کی طرف دیکھ سکیں۔وہ تو گویا صرف بچے جننے اور بچوں کو دودھ پلانے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور ان کی یہ بے چارگی ان میں سے کسی بڑے کام کوسامنے لانے کی صلاحیت کو چھین لیتی ہے۔اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری عورتوں میں سے کوئی بھی دنیاوی لحاظ سے بڑی عورت سامنے نہیں آتی۔مزید برآں یہ کہ ان کی زندگی درختوں کی زندگی کی طرح ہے۔وہ مردوں کی ذمے داری ہیں،اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے کیونکہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے اور وہ اپنا قوت لایموت بھی نہیں کما سکتیں۔

 

 

Share:

1/10/26

نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود | مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ  کے  نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود سے متعلق افکار

فلسفہ وحدۃالوجود: وحدت الوجودیعنی ‘‘ہمہ اوست’’  کہ خداکائنات ہے اورکائنات خدا ، اس سےزیادہ نہ کم۔اسے توحیدعینی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔

فلسفہ وحدت الشہود:  وحدت الشہود یعنی ‘‘ہمہ ازاوست’’ کہ کائنات خداکاپرتوہے۔ اسے توحیدظلی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی  مجددالف ثانی شیخ احمدسرہندی ہیں انہوں نے وحدت الوجودمیں اصلاح کی خاطروحدت الشہودکانظریہ پیش کیاتھا۔

شیخ مجددلکھتے ہیں کہ تصوف کی تاریخ میں نظریہ وحدۃالوجود ایک نئی چیز ہے ۔ابن عربی سے قبل اسے کسی نے بھی پیش نہیں کیا تھا۔اس سے قبل صرف توحید شہودی تھی،نہ کہ توحید وجودی(مکتوبات،ج1، م272، ص653)اور اس نظریہ کو انبیاء کرام کے بیان کردہ تصور توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔( مکتوبات،ج1،م272،ص650) فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کے بہت سے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔آپؒ اس کی مختلف صوررتیں بیان کی ہیں:

۱: نظریہ بت پرستی کے لیے جواز فراہم کرتا ہے،چوں کہ یہ نظریہ کائنات کو خداکا عین قرار دیتا ہے،اس لیے کائنات کی کسی بھی چیز کی عبادت عین خدا کی عبادت قرار پاتی ہے،بہ شرطیہ کہ اس کی عبادت مظہر خداوندی سمجھ کر کی جائے۔( مکتوبات،ج1،م272،ص1۔650)عام طور پر بت پرست بھی اپنے معبودوں کی عبادت خدا کا مظہر سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔

۲: اس سے انسان کا ہر غلط عقیدہ اور ہر برا فعل اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جاتا ہے(مکتوبات،ج142،853)

۳: انسان کے اختیار اور ارادے کا خاتمہ ہوجاتا ہے(مکتوبات،ج1،م286،ص8۔697)

۴: کچھ ارواح کی ابدیت لازم آتی ہے (مکتوبات،ج1، م286، ص698)

۵: ہر چیز خیر بن جاتی ہے۔کوئی چیز خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو وہ خیر مطلق کا ظہور ہے،اس لیے وہ بھی خیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے قائلین کفروالحاد کو خیر کہتے ہیں۔

وحدۃ الشہود

شیخ مجدد الف ثانی نے وحدۃالوجود کی جگہ وحدۃالشہود کا نظریہ پیش کیا جو آپ کے نزدیک توحید نبوی کے مطابق ہے اور صوفیہ کے مشاہدے (وجود واحد کے شہود)سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔اس کی رو سے صوفی کو اپنے تجربے میں جو وحدت نظر آتی ہے،وہ صرف مشاہدے کی چیز ہے ،نہ کہ کوئی معروضی حقیقت ۔آپ کے فلسفے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات سے بالکل مختلف اور کلیتاً غیر ہے۔کائنات کسی معنی میں خداکے ساتھ متحد نہیں ہے،وجود کے معنی میں تو قطعاً اشتراک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا وجود ایک وجود ہے اور کائنات کا وجود بالکل دوسرا وجود ہے۔( تصوف اور شریعت،1/143) شیخ مجددؒ اس فلسفہ کو مثالوں سےواضح کرتے ہیں کہ جیسےآئینے میں کسی موجودشئےکاعکس گویاایک ’’شئے‘‘ ہےاوراس موجوداوراس کےعکس کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں، اسی طرح اللہ تعالی ٰکی ذات اورکائنات کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کسی چیز کاسایہ اس چیزکاعین نہیں، بلکہ اسکی ایک شبیہ اورمثال  ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہے وہ  وجودہویااس کی صفات، و ہ اللہ تعالی ٰکی طرف سےعطاشدہ اورذاتِ باری تعالیٰ کےکمالاتِ ذاتیہ کا پرتَوہے۔اس کی دوسری مثال ایسےہےجیسےسورج اوراس کی روشنی، کہ روشنی کاوجودہرلمحہ سورج ہی کےدم سےہےمگراس کےباوجودروشنی سورج سےعلیحدہ وجودکی حامل ہے۔ گویا آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خالق و مخلوق الگ الگ ہیں ہر چیز خدا نہیں ہے نہ ہی ہر چیز میں خدا ہے  جیسا کہ فلسفہ وحدت الوجود کے حاملین مانتے ہیں ۔

شیخ احمد نے توحید وجودی (وحدۃ الوجود)اور توحید شہودی(وحدۃ الشہود) میں فرق کرتے ہوئے لکھا:’’توحید شہودی صرف ایک ذات کے مشاہدے کا نام ہے،یعنی یہ کہ سالک کے مشاہدے میں ایک ذات کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں توحید وجودی اس اعتقاد کا نام ہے کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات کا وجود ہے۔اس کے علاوہ کوئی اور شئے وجود نہیں رکھتی اور یہ کہ تمام اشیا باوجود غیر موجود ہونے کے ایک ہی وجود کے مظاہر اور اشکال ہیں۔‘‘( مکتوبات،ج1،م43،ص148)

آپ وحدۃ الشہود پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:’’ فنا کے حصول کے لیے توحید شہودی ہی کافی ہے اور اس کے ذریعہ بھی وہ اخلاص حاصل ہوتا ہے جو صوفیہ کے سلوک کی غایت ہے۔جب کہ وحدۃ الوجود کے راستے سے سالک کے گم ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ دریا کو چھوڑ کر قطروں کے پیچھے بھاگتے ہیں ، حقیقت کو چھوڑ کر محض سراب اور اظلال کے پیچھے سرگرداں رہتے ہیں۔مجھے اس حقیقت کا ادراک اپنے ذاتی تجربے سے حاصل ہوا ہے۔‘‘)مکتوبات،ج1، م272،ص654،م43،ص147)

 

 

Share:

1/6/26

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی | Mere Khaja Pia


 

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

مولا علی کے نور نظر ہو

پیارے نبی کے لختِ جگر ہو

مجھ پہ عنایت شام و سحر ہو

سیدِ محترم کر دو کر دو کرم

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

جس نے بھی تم کو دکھ میں پکارا

اس کو دیا ہے تم نے سہارا

میرا بھی دامن بھر دو خدارا

والئی بے کساں خواجۂ خواجگاں

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

عثماں کے پیارے دکھیوں کے والی

کوئی بھکاری کوئی سوالی

در سے تمہارے لوٹا نہ خالی

تم نے سب کو دیا صدقۂ چشتیہ

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

یاد جو آئے تمری نگریا

چندا کے جیسی توری اٹریا

تڑپوں میں جیسے جل بِن مچھریا

اب تو کرپا کرو ہاتھ سر پہ دھرو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

نصرت ہے تم پر قربان خواجہ

انور کا ہے یہ ارمان خواجہ

کر دو مجاہد پہ احسان خواجہ

اک نظر ڈال دو مشکلیں ٹال دو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

Share:

1/2/26

دل جو ٹوٹا حضورﷺ یاد آئے | Dil jo toota Huzur Yaad AAi


 

دل جو ٹوٹا حضورﷺ یاد آئے

 اشک نکلا حضورﷺ یاد آئے

 

سوچ کر یہ کے میں اکیلا ہوں

میں جو رویا حضورﷺ یاد آئے

 

نعت سرور میں ڈوب کر جب بھی

خود کو بُھولا حضورﷺ یاد آئے

 

 غرض و غایت کی بھری دنیا سے

جب میں نکلا حضورﷺ یاد آئے

 

وہ خدا کے قریب ہے اتنا

 جس کو جتنا حضورﷺ یاد آئے

 

بے خودی میں جو آنکھ بھر آئی

ضبط بکھرا حضورﷺ یاد آئے

 

فلسفہ عشق حقیقی کیا ہے

 میں جو سمجھا حضورﷺ یاد آئے

 

ابن حیدر حسین کے غم میں

دل جو تڑپا حضورﷺ یاد آئے

 

کون ہر بار بھرم رکھتا ہے

 جب بھی سوچا حضورﷺ یاد آئے

 

 رات سجدہ کیا خدا کیلئے

 سر اٹھایا حضورﷺ یاد آئے

 

 میری آنکھوں نے پہلی بار ضیاءؔ

 کعبہ دیکھا حضورﷺ یاد آئے

 

میں نے سادات کے ہاتھوں کو ضیاءؔ

جب بھی چوما حضورﷺ یاد آئے

Share:

12/28/25

Trends Fade, Identity Stays | اپنی تہذیب یا دوسروں کی نقالی

اپنی پہچان کی تلاش : تہذیب، اقدار اور نئی نسل

عصرِ حاضر میں ایک نمایاں طبقہ ایسا ہے جو مغربی تہذیب، مغربی اقوام کی ترقی، اور ان کے رسوم و رواج کو جدت پسندی اور نئے رجحانات سمجھ کر نہ صرف قبول کرتا ہے بلکہ ان کا بھرپور دفاع اور پرچار بھی کرتا ہے۔ یہ رویہ کوئی اچانک پیدا ہونے والی انہونی بات نہیں، بلکہ ایک تدریجی فکری تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ذہنیت کے حامل افراد کے نزدیک اپنی معاشرتی اور تہذیبی اقدار کی کوئی خاص وقعت باقی نہیں رہتی۔

 ایسے لوگ تہذیب کو محض چمک، رنگینی اور ظاہری دلکشی تک محدود کر دیتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ ان کی اصل پہچان کیا ہے، ان کی تہذیب کن بنیادوں پر قائم ہے، اور آنے والی نسلیں انہیں کس شناخت کے ساتھ یاد رکھیں گی۔ مستقبل میں اپنی اقدار کے بقا کا سوال ان کے لیے غیر اہم بن جاتا ہے، حالانکہ یہی سوال کسی بھی قوم کے وجود اور تسلسل کی ضمانت ہوتا ہے۔

درحقیقت یہ محض ایک فکری کمزوری نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور عمرانی مسئلہ ہے، جس کی طرف دنیا کے ہر سنجیدہ ماہرِ عمرانیات توجہ دلاتا رہا ہے۔ چاہے وہ مغرب کا دانشور ہو یا مشرق کا مفکر، مسلمان ہو یا غیر مسلم — سب اس بات پر متفق ہیں کہ جو قوم اپنی تہذیبی بنیادوں سے کٹ جائے، وہ ترقی کے نام پر محض نقل کا ایک بے روح نمونہ بن کر رہ جاتی ہے۔

عام طور پر وہ افراد اس فکری الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں جو زندگی کو صرف ایک نسل یا اپنی ذاتی آسائشوں تک محدود کر کے دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے لباس، خوراک اور وقتی طرزِ زندگی ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو انسانیت اور معاشروں کا مطالعہ نسل در نسل تسلسل کے تناظر میں کرتے ہیں، وہ تہذیب و تمدن کو نہایت گہری نظر سے سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ تہذیب کوئی فیشن نہیں بلکہ ایک اجتماعی وراثت ہے، جو صدیوں میں تشکیل پاتی ہے۔

 یہی وہ مقام ہے جہاں نئی نسل کو خود سے چند بنیادی سوالات پوچھنے کی ضرورت ہے:

·       ہم کون ہیں؟

·       ہمارے معاشرتی تقاضے اور رجحانات کیا ہیں؟

·       ہماری تہذیب کن اصولوں پر قائم ہے؟

·       ہماری اقدار کیا ہیں اور ان کی اہمیت کیوں ہے؟

·       معاشرے کیسے وجود میں آتے ہیں اور کیوں قائم رہتے ہیں؟

اسلام ان تمام سوالات کا نہایت واضح اور متوازن جواب دیتا ہے۔ اسلام کا معاشرتی نظام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے۔ اسلام ایک ایسا تہذیبی تصور پیش کرتا ہے جس میں خاندان، حیا، عدل، امانت، احترامِ انسانیت، اور اجتماعی ذمہ داری بنیادی اقدار ہیں۔ یہی وہ اصول ہیں جو فرد کو بھی سنوارتے ہیں اور معاشرے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

اسلام اس لیے اپنی معاشرتی اقدار اور نظام کی پیروی پر زور دیتا ہے کہ یہی اقدار انسان کو محض صارف نہیں بلکہ ذمہ دار انسان بناتی ہیں۔ یہی نظام فرد کو اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ اپنی حدود بھی سکھاتا ہے، اور معاشرے کو انتشار کے بجائے ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔

 نئی نسل کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ وہ جدید دنیا سے کیسے جڑے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنی پہچان کے ساتھ جدید دنیا میں کیسے قدم رکھے۔ ترقی کو اپنانا جرم نہیں، مگر اپنی تہذیب کو چھوڑ دینا ایک خاموش خودکشی ہے۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو زمانے کے ساتھ چلتی ضرور ہیں، مگر اپنی جڑوں سے کبھی کٹتی نہیں۔

 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے دل میں یہ شعور بیدار کریں کہ اپنی اقدار بوجھ نہیں، طاقت ہوتی ہیں۔ یہی اقدار ہمیں ماضی سے جوڑتی ہیں، حال کو معنی دیتی ہیں، اور مستقبل کو سمت عطا کرتی ہیں۔

 

اسلام اپنے معاشرتی نظام کو اہمیت کیوں دیتا ہے؟

اسلام اپنے معاشرتی نظام کو اس لیے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے کہ وہ انسان کو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک ذمہ دار سماجی وجود سمجھتا ہے۔ اسلام کے نزدیک انسان کی شخصیت تنہائی میں نہیں بنتی، بلکہ خاندان، معاشرے اور اجتماعی ماحول میں تشکیل پاتی ہے۔ اس لیے اگر معاشرہ درست اصولوں پر قائم نہ ہو تو فرد کی اصلاح بھی ممکن نہیں رہتی۔

اسلام جانتا ہے کہ عقائد اور عبادات کا اثر اسی وقت مکمل اور پائیدار ہوتا ہے جب وہ ایک صحت مند معاشرتی ڈھانچے کے اندر پروان چڑھیں۔ اگر معاشرہ ظلم، بے حیائی، خود غرضی اور اخلاقی انتشار کا شکار ہو تو فرد کی دینداری محض ایک ذاتی عمل بن کر رہ جاتی ہے، جس کا اجتماعی زندگی پر کوئی اثر باقی نہیں رہتا۔ اسی لیے اسلام ایک ایسے معاشرتی نظام کی تشکیل پر زور دیتا ہے جو ایمان کو عملی زندگی میں ڈھال دے۔

اسلامی معاشرتی نظام کی بنیاد چند بنیادی اقدار پر قائم ہے: عدل، حیا، امانت، احترامِ انسانیت، خاندانی نظام، باہمی تعاون اور اجتماعی ذمہ داری۔ یہ اقدار اس لیے ضروری ہیں کہ انسان کی فطرت محض آزادی نہیں بلکہ توازن چاہتی ہے۔ اسلام فرد کو آزادی بھی دیتا ہے مگر اسے اخلاقی حدود کے ساتھ مشروط کرتا ہے، تاکہ ایک فرد کی آزادی دوسرے فرد کے حقوق کو پامال نہ کرے۔

اسلام اپنے معاشرتی نظام کو اس لیے بھی اہمیت دیتا ہے کہ وہ نسلِ انسانی کے تسلسل اور اخلاقی بقا کی ضمانت بنتا ہے۔ خاندان کا مضبوط نظام، نکاح کی ترغیب، والدین اور اولاد کے حقوق، عورت اور مرد کے باوقار کردار — یہ سب ایسے عناصر ہیں جو معاشرے کو وقتی لذت کے بجائے طویل المدت استحکام عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ایسے رجحانات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو خاندان کو کمزور اور فرد کو تنہا کر دیتے ہیں۔

مزید یہ کہ اسلام معاشرتی نظام کے ذریعے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ عدل و انصاف، کمزوروں کا تحفظ، یتیموں اور مسکینوں کی کفالت، پڑوسیوں کے حقوق، اور سماجی انصاف — یہ سب اسلامی معاشرت کا حصہ ہیں۔ یوں اسلامی نظام معاشرے کو طاقتور اور کمزور کے درمیان کشمکش کے بجائے رحمت اور توازن پر قائم کرتا ہے۔

اسلام اس لیے بھی اپنے معاشرتی نظام کی پیروی پر زور دیتا ہے کہ یہی نظام امت کو ایک مشترکہ شناخت اور اجتماعی شعور عطا کرتا ہے۔ جب ایک معاشرہ مشترکہ اقدار پر متحد ہوتا ہے تو وہ فکری انتشار، تہذیبی شکست اور اخلاقی غلامی سے محفوظ رہتا ہے۔ یہی مشترکہ اقدار امت کو ایک سمت دیتی ہیں اور اسے تاریخ میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

مختصراً، اسلام اپنے معاشرتی نظام کو اس لیے اہمیت دیتا ہے کہ وہ:

·       فرد کی اصلاح کو اجتماعی اصلاح سے جوڑتا ہے

·       آزادی اور اخلاق کے درمیان توازن قائم کرتا ہے

·       نسلوں کی بقا اور تہذیبی تسلسل کو محفوظ بناتا ہے

·       اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جو عدل، رحمت اور ذمہ داری پر قائم ہو۔

یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر اسلام اپنے معاشرتی نظام کو محض ایک انتخاب نہیں بلکہ زندگی کی ناگزیر ضرورت قرار دیتا ہے۔

 

روشن خیالی یا فکری بے سمتی؟

کچھ لوگ اہلِ مغرب اور دیگر اقوام کے تہواروں، رجحانات اور طرزِ زندگی کو اپنانے کو روشن خیالی، ترقی پسندی اور ذہنی وسعت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک نئے تہوار منانا، غیر مانوس رسمیں اختیار کرنا اور اپنی تہذیب سے فاصلہ پیدا کرنا ایک جدید انسان ہونے کا ثبوت ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا ہر نئی چیز واقعی ترقی ہوتی ہے؟ اور کیا ہر اپنایا ہوا رجحان ہمیں واقعی آگے لے جاتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ تہوار محض تفریح یا رنگینی کا نام نہیں ہوتے، بلکہ وہ ہر قوم کے عقائد، تاریخ اور اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جب کوئی قوم اپنے تہوار چھوڑ کر دوسروں کے تہواروں کو فخر سے اپناتی ہے تو وہ دراصل اپنی تاریخ، اپنے نظریے اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈال رہی ہوتی ہے۔ یہ عمل آزادیِ فکر نہیں بلکہ فکری غلامی کی ایک خاموش شکل ہے۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ جو اقوام دنیا میں اپنی تہذیب اور شناخت پر فخر کرتی ہیں، وہی حقیقی معنوں میں باوقار اور مستحکم رہتی ہیں۔ جاپان، چین، یہود اور مغربی اقوام خود اپنے تہواروں اور ثقافتی علامات پر کبھی شرمندہ نہیں ہوتیں، پھر آخر ہم ہی کیوں اپنی اقدار کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں؟ کیا ہماری عیدیں، ہمارے دینی شعائر، ہمارے تہذیبی مظاہر کسی بھی طرح انسانیت، اخلاق اور روحانیت سے خالی ہیں؟

اصل روشن خیالی یہ نہیں کہ انسان ہر آنے والے رجحان کے ساتھ بہہ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر انتخاب کرے۔ روشن دماغ وہ ہوتا ہے جو نئی چیز کو اپنی تہذیب کے ترازو میں تولے، نہ کہ اپنی تہذیب کو ہر نئی چیز پر قربان کر دے۔ جس معاشرے کے پاس اپنا معیار نہ ہو، وہ دوسروں کے معیار کا محتاج بن جاتا ہے۔

 اسلام نے انسان کو اندھی تقلید سے روکا ہے اور اسے شعور، مقصد اور اعتدال کی راہ دکھائی ہے۔ اسلام انسان کو اپنی شناخت مٹانے کا نہیں بلکہ اپنی پہچان کے ساتھ دنیا میں جینے کا درس دیتا ہے۔ اپنی تہذیب اور اقدار کو اپنانا تنگ نظری نہیں، بلکہ اپنی فکری خودمختاری کا اعلان ہے۔

 نئی نسل کے لیے لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ وہ محض صارف بن کر تہوار منانا چاہتی ہے یا ایک باوقار امت کا فرد بن کر اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یاد رکھیے، وہ قوم جو دوسروں کے تہواروں پر فخر کرے اور اپنے شعائر پر شرمندہ ہو، وہ آہستہ آہستہ تاریخ کے حاشیے پر چلی جاتی ہے۔

آئیے روشن خیالی کی نئی تعریف کریں: روشن خیالی یہ نہیں کہ ہم اپنی تہذیب کو چھوڑ دیں، بلکہ روشن خیالی یہ ہے کہ ہم اپنی تہذیب کی روشنی میں دنیا کو دیکھیں۔

 

ایک اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ جب کچھ لوگ غیر اقوام کے تہواروں اور رجحانات کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں تو ہمارا ردِعمل اکثر ایک محدود دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔ فوراً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کام شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ یہ سوال اور بحث اپنی جگہ ضرور اہم ہے لیکن ایک اور  اہم اور بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ یہ رویہ ہماری تہذیب، ہماری شناخت اور ہمارے اجتماعی شعور کے لیے کس قدر نقصان دہ ہے؟

یہ حقیقت ہے کہ ہر مسئلہ صرف فقہی دائرے میں حل نہیں ہوتا۔ فقہ انسان کے افعال کے شرعی احکام بیان کرتی ہے، مگر تہذیب اور تمدن کا معاملہ اس سے کہیں وسیع تر ہوتا ہے۔ بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر کسی صریح شرعی ممانعت کے تحت نہیں آتے، لیکن وہ آہستہ آہستہ ایک قوم کی فکری سمت، تہذیبی ذوق اور اجتماعی اقدار کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اگر ہم صرف جائز یا ناجائز کی بحث میں الجھے رہیں اور اس کے تہذیبی اثرات کو نظر انداز کر دیں تو ہم مسئلے کی جڑ تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل ہمیں اپنی تہذیب سے قریب کر رہا ہے یا دور؟

کیا یہ ہماری آنے والی نسل کو اپنی اقدار سے جوڑ رہا ہے یا اجنبی بنا رہا ہے؟

کیا یہ ہمیں ایک باوقار امت کے طور پر مضبوط کر رہا ہے یا فکری طور پر منتشر؟

یہی وہ سوالات ہیں جن پر ہر باشعور معاشرہ غور کرتا ہے۔ دنیا کی زندہ قومیں کسی عمل کو محض اس بنیاد پر قبول نہیں کرتیں کہ وہ قانوناً ممکن ہے، بلکہ اس بنیاد پر پرکھتی ہیں کہ وہ عمل ان کی تہذیبی روح کے موافق ہے یا نہیں۔ افسوس کہ ہم نے اس اجتماعی شعور کو رفتہ رفتہ کمزور کر دیا ہے۔

اسلام بھی انسان کو محض احکام کی فہرست نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک مکمل تہذیبی مزاج عطا کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا مقصد یہ نہیں کہ انسان صرف گناہ سے بچے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی شناخت، ذوق اور ترجیحات میں بھی اسلام کی نمائندگی کرے۔ اسی لیے اسلام تشبّہ، اندھی تقلید اور فکری غلامی سے روکتا ہے، چاہے وہ بظاہر کسی واضح حرمت کے دائرے میں نہ بھی آتی ہو۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم گفتگو کا رخ بدلیں۔ بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ یہ کام جائز ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ یہ کام ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے۔ اگر کوئی عمل ہماری تہذیب کو مٹاتا، ہماری اقدار کو کمزور کرتا اور ہماری نئی نسل کو اپنی پہچان سے دور کرتا ہے تو وہ عمل خواہ وقتی طور پر “جائز” سمجھا جائے، تہذیبی طور پر تباہ کن ہو سکتا ہے۔

آج ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم فقہی شعور کے ساتھ ساتھ تہذیبی شعور کو بھی زندہ کریں۔ کیونکہ قومیں صرف فتوؤں سے نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی بصیرت سے زندہ رہتی ہیں۔

تحقیق و تدوین: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور) (سی ای او فاؤنڈر:المعین ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار اسلامک آئیڈیالوجی)

 

Share:

12/24/25

اشک آنکھوں سے جو ہوتے ہیں رواں بسم اللہ Ashk Aankhon se


 

اشک آنکھوں سے جو ہوتے ہیں رواں بسم اللہ

 مانگ جو مانگنا ہے گریہ کنا ں بسم اللہ


جسم کے دشت میں کر عشق رواں بسم اللہ

کہہ بھی دے روک نہیں اپنی زبان بسم اللہ


 یہ ہے درگاہ کرم یہ نہیں توڑیں گے بھرم

 درد دل سارے یہاں کر دے بیاں بسم اللہ


 اے مسافر اے ستم خوردہ عجم کے شاعر

بخت والا ہے جو آیا ہے یہاں بسم اللہ


 ہم فرشتے بھی یہیں بیٹھے ہیں تو بھی آجا

بیٹھ جا راندہ دربار جہاں بسم اللہ


میں کہوں روضہ اطہر  سے لپٹنا ہے مجھے

 مجھ سے دربان کہے آجا میاں بسم اللہ


  میں چراغوں پہ تیرے اسم کا دم پڑتا ہوں

رقص کرتے ہوئے پڑھتا ہے دھواں بسم اللہ


روز محشر میں کہوں نعت سنانی ہے مجھے

کہیں جبریل اشارے سے کہ ہاں بسم اللہ


میں نے پوچھا کہ پڑھیں مل کے محمد پہ درود

 ایک دم بول اٹھے کون و مکاں بسم اللہ


ہم بہکنے کے نہیں دید سے تھکنے کے نہیں

جام بھر بھر کے پلا پیر مغاں بسم اللہ


رقص کرنا ہے تو کر وجد میں آنا ہے توآ

ڈر نہ تحسین میاں لالے کی جاں بسم اللہ

Share:

12/23/25

Understanding Contingency and Necessary Being: Philosophical Insights into God’s Existence

Contingency اور لازمی وجود: اللہ تعالی کی شناخت کا فلسفیانہ نقطہ نظر

انسان ہمیشہ سے یہ سوچتا آیا ہے کہ کائنات کیوں اور کس وجہ سے موجود ہے، اور ہر شے کی بنیاد کیا ہے۔ فلسفہ اور علم کلام نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ ہر موجود شے کیوں موجود ہے اور اس کی ضرورت کیا ہے۔

فلسفہ میں contingency (امکانیت / غیر لازمی ہونا) کا تصور ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ بہت سی چیزیں لازمی نہیں، بلکہ ممکنات پر منحصر ہیں۔ یعنی وہ ہونا بھی ممکن ہے اور نہ ہونا بھی ممکن ہے۔ کائنات کی ہر contingent چیز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کا کوئی لازمی وجود ضرور ہے، جو سب کچھ قائم رکھتا ہے — اور وہ لازمی وجود اللہ تعالی ہے۔

Contingent وجود کیا ہے؟

 Contingent وجود وہ چیز ہے جو لازمی نہیں، بلکہ ممکنات پر منحصر ہے۔

مثالیں: انسان: ہم یہاں موجود ہیں، لیکن ہماری موجودگی لازمی نہیں؛ ہم کسی اور جگہ پیدا ہو سکتے تھے یا مختلف حالات میں پیدا نہ بھی ہوتے۔ زمین اور پہاڑ: زمین موجود ہے، لیکن اگر اللہ نہ چاہتاتو یہ وجود میں نہ آتی۔ پہاڑ، درخت، اور ہر قدرتی مظہر contingent ہیں۔ کائنات کے مظاہر: سورج، چاند، ستارے، ہوا، پانی — یہ سب contingent ہیں، کیونکہ یہ اپنی فطرت میں لازمی نہیں، بلکہ اللہ کی قدرت اور حکمت کے تحت ہیں۔ خلاصہ: ہر چیز جو contingent ہے، وہ ممکن ہے کہ نہ بھی ہو۔

لازمی وجود (Necessary Being)

 اگر ہم کائنات کے تمام contingent وجودات کا تجزیہ کریں، تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر contingent چیز کسی نہ کسی بنیاد پر منحصر ہے۔ اگر سب contingent ہیں، تو پھر کون ایسی شے ہے جو سب contingent چیزوں کو قائم رکھے؟ فلسفی کہتے ہیں کہ کچھ لازمی ہونا چاہیے — وہ شے جو خود کسی پر منحصر نہیں اور سب contingent چیزوں کی وجہ ہو۔ یہ لازمی وجود اللہ تعالی ہے۔ اللہ ہر چیز کا خالق، پروردگار، اور باعثِ وجود ہے۔ کوئی contingent چیز اللہ کے بغیر مستقل طور پر قائم نہیں رہ سکتی۔

فلسفیانہ اور دینی نقطہ نظر

 اسلامی فلسفہ اور علم کلام میں بھی یہی بات سامنے آتی ہے: کائنات کی ساخت: زمین، آسمان، درخت، پہاڑ، انسان، جانور — یہ سب contingent ہیں۔ ہر contingent چیز کی ایک وجہ ہے، اور وہ وجہ لازمی وجود (اللہ) ہے۔

 قدرت اور حکمت:

 اللہ نے ہر contingent چیز کو ایک خاص حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے۔ مثال: سورج زمین پر روشنی دیتا ہے، درخت زمین کو زرخیز بناتے ہیں، انسان عقل اور شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔

 Contingency اور عبادت:

 جب ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز contingent ہے، تو یہ شعور ہمیں توکل، عبادت اور شکرگزاری کی طرف لے جاتا ہے۔ مثال: انسان کو بیماری یا مصیبت کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن اس contingency کو سمجھ کر وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

فلسفہ میں contingency کا اصول اور Necessary Being کا تصور ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ: کائنات کی ہر contingent چیز کسی نہ کسی بنیاد پر موجود ہے۔ وہ لازمی وجود اللہ تعالی ہے، جو سب کا خالق اور باعثِ وجود ہے۔ یہ شعور نہ صرف انسانی فہم کو روشن کرتا ہے بلکہ روحانی سکون، عبادت، توکل اور شکرگزاری بھی پیدا کرتا ہے۔


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive